مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَوْفٍ ، أَبَا جُمُعَةَ حَبِيبَ بْنِ سِبَاعٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَوْفٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا جُمُعَةَ حَبِيبَ بْنِ سِبَاعٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَحْزَابِ صَلَّى الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: " هَلْ عَلِمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَلَّيْتَهَا، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَعَادَ الْمَغْرِبَ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوجمعہ حبیب بن سباع رضی اللہ عنہ ”جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پایا ہے“ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احزاب کے سال مغرب کی نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ میں نے عصر کی نماز بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ لوگوں نے بتایا: یا رسول اللہ! آپ نے نمازِ عصر نہیں پڑھی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر پڑھی، پھر نمازِ مغرب کو دوبارہ لوٹایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16975]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، صالح بن جبير متابع
الحكم: حديث صحيح ، صالح بن جبير متابع