عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ الْحِمْصِيُّ ، ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ ، أَبَا كَثِيرٍ الْمُحَارِبِيَّ ، خَرَشَةَ بْنَ الْحُرِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا كَثِيرٍ الْمُحَارِبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ خَرَشَةَ بْنَ الْحُرِّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَتَكُونُ مِنْ بَعْدِي فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَمَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ فَلْيَمْشِ بِسَيْفِهِ إِلَى صَفَاةٍ، فَلْيَضْرِبْهُ حَتَّى يَنْكَسِرَ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعَ لَهَا حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَيَتْ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا خرشہ بن حر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ک میرے بعد فتنے رونما ہوں گے، اس زمانے میں سویا ہوا شخص جاگنے والے سے، بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے اور کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا، جس پر ایسا زمانہ آئے اسے چاہیے کہ اپنی تلوار صفا پر لے جا کر مارے اور اسے توڑ دے، اور ان فتنوں کے سامنے (کھڑا ہونے کی بجائے) بیٹھ جائے، یہاں تک کہ اجالا ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16974]
حکم دارالسلام
حديث منكر، تفرد به بن لهيعة، محمد بن يزيد وعبد الله بن عوف مجهولان
الحكم: حديث منكر، تفرد به بن لهيعة، محمد بن يزيد وعبد الله بن عوف مجهولان