مَكِّيٌّ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ:" يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ؟، قَالَ: هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتُهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ: يَوْمَ أُصِبْتُهَا قَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ، فَأُتِيَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن ابوعبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع کی پنڈلی میں ضرب کا ایک نشان دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابومسلم! یہ نشان کیسا ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ ضرب غزوہ خیبر کے موقع پر لگی تھی، جب مجھے یہ ضرب لگی تو لوگ کہنے لگے کہ سلمہ تو گئے، لیکن پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر تین مرتبہ پھونک ماری اور اب تک مجھے دوبارہ اس کی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16514]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4206
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4206