صَفْوَانُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ، رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِيرَانًا تُوقَدُ، فَقَالَ:" عَلَامَ تُوقَدُ هَذِهِ النِّيرَانُ؟"، قَالُوا: عَلَى لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، قَالَ:" كَسِّرُوا الْقُدُورَ، وَأَهْرِيقُوا مَا فِيهَا"، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُهْرِيقُ مَا فِيهَا، وَنَغْسِلُهَا؟، قَالَ:" أَوَذَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم خیبر سے واپس آرہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متفرق مقامات پر کچھ آگ روشن دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ آگ کس مقصد کے لئے جلا رکھی ہے؟ لوگوں نے بتایا پالتو گدھوں کا گوشت پکانے کے لئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہانڈیاں الٹ دو اور جو کچھ اس میں ہے سب بہا دو، لوگوں میں سے ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ!! کیا اس میں جو کچھ ہے، اسے بہا کر برتن کو بھی دھوئیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو اور کیا؟ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16513]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4196، م: 1802
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4196، م: 1802