زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ ، أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ أُرِيَ الْأَذَانَ، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ"، فَأَلْقَيْتُهُ، فَأَذَّنَ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا رَأَيْتُ، أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ، قَالَ:" فَأَقِمْ أَنْتَ" فَأَقَامَ هُوَ، وَأَذَّنَ بِلَالٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں خواب میں اذان کے کلمات سیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ خواب بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات بلال کو سکھا دو، چنانچہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! چونکہ یہ خواب میں نے دیکھا ہے، اس لئے میری خواہش ہے کہ اقامت میں کہوں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اقامت کہنے کی اجازت دے دی، اس طرح اقامت انہوں نے کہی اور اذان سیدنا بلال نے دی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16476]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى سهل، وقد اختلف فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى سهل، وقد اختلف فى إسناده