أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ" فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا، فَلَمْ يُصِبْهُ وَلَا صَاحِبَهُ شَيْءٌ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ وَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ، فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ، فَإِنَّ شَعْرَهُ عِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اور ایک قریشی آدمی منیٰ کے میدان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قربانی کا گوشت تقسیم کر رہے تھے لیکن وہ انہیں یا ان کے ساتھی کو نہ مل سکا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کپڑے میں سر منڈوا کر بال رکھ لئے اور وہ انہیں دے دیئے اور اس میں کچھ بال چند لوگوں کو بھی دیئے، پھر اپنے ناخن تراشے تو وہ ان کے ساتھی کو دے دیئے۔ سیدنا عبداللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وہ بال جن پر مہندی اور وسمہ کا خضاب کیا گیا تھا، آج بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16475]
الحكم: إسناده صحيح