سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَة َ ، جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَعَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَة َ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانَا بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنَ اسْمِنَا إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہو جاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کر لیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16134]
الحكم: إسناده صحيح