وَكِيعٌ ، نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ الزُّبَيْرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ:" كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ، أَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الْآخَرُ بِغَيْرِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: إِنَّمَا أَرَدْتَ خِلَافِي، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ،" فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 إِلَى قَوْلِهِ عَظِيمٌ" قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَكَانَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ كَأَخِي السِّرَارِ، لَمْ يَسْمَعْهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں قریب تھا کہ دونوں بہترین افراد یعنی سیدنا ابوبکر اور عمر افسردہ رہ جاتے واقعہ یوں پیش آیا کہ جب بنوتمیم کا وفد بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو شیخین میں سے ایک نے اقرع بن حابس کو ان کا امیر مقرر کرنے کا مشورہ دیا اور دوسرے نے کسی اور کا سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سے کہنے لگے کہ آپ تو بس میری مخالفت کرنا چاہتے ہیں سیدنا عمر کہنے لگے کہ میرا تو آپ کی مخالفت کا کوئی ارادہ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں ان دونوں کی آوازیں بلند ہو نے لگیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آوازوں سے اونچانہ کیا کر و اس آیت کے بعد سیدنا عمر جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی بات کرتے تو اتنی پست آواز سے کرتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوبارہ پوچھنا پڑتا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16133]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4367
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4367