بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16073
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16073
حدیث نمبر: 16073 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حُجْرُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ الْكِنَانِيِّ ، لِبَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنَاه أَبِي عَنْهُ وَهُوَ حَيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجْرُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ مِنْ أَهْلِ الرَّمْلَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ الْكِنَانِيِّ ، وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّمْلَةِ، أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، قَالَ لِبَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ يَوْمَ قُتِلَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: يَا أَبَا الْيَمَانِ، إِنِّي قَدْ احْتَجْتُ الْيَوْمَ إِلَى كَلَامِكَ، فَقُمْ فَتَكَلَّمْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَامَ بِخُطْبةٍ لَا يَلْتَمِسُ بِهَا إِلَّا رِيَاءً وَسُمْعَةً، أَوْقَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَوْقِفَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عوف کنانی جو کہ عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے رملہ کے گورنر تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ عبدالملک بن مروان کے پاس موجود تھے کہ عبدالملک نے سیدنا بشیر بن عقربہ جہنی سے جس دن عمر بن سعید بن عاص مقتول ہوئے کہا اے ابویمان آج مجھے آپ کے کلام کرنے کی ضرورت ہے لہذا آپ کھڑے ہو کر کلام کر لیجیے انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دکھاوے اور شہرت کی خاطر تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہواللہ قیامت کے دن اس دکھاوے اور شہرت کے مقام پر روک کر کھڑا کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16073]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (16072) باب پر واپس اگلی حدیث (16074) →