قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا , يَقُولُ: أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ،" فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ، فَكَانَتْ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الْعَرُوسُ , قَالَ: تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْقَعَتْ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلَةِ فِي تَوْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابواسید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی شادی میں شرکت کی دعوت دی اس دن ان کی بیوی نے ہی دلہن ہو نے کے باوجود ان کی خدمت کی سیدنا ابواسید نے لوگوں سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا پلایا تھا میں نے ایک برتن میں رات کو کھجوریں بھگودیں تھیں ان ہی کا پانی (نبیذ) تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5176، م: 2006
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5176، م: 2006