يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَبْدُ اللَّهُ بْنُ أُنَيْسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَدْ سَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ، قَالَ: جَلَسَ مَعَنَا عَبْدُ اللَّهُ بْنُ أُنَيْسٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِهِ فِي مَجْلِسِ جُهَيْنَةَ، قَالَ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا يَحْيَى، سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ هَذَا الشَّهْرِ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى نَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ الْمُبَارَكَةَ؟ قَالَ:" الْتَمِسُوهَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ"، وَقَالَ: وَذَلِكَ مَسَاءَ لَيْلَةِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَهِيَ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَّلُ ثَمَانٍ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِأَوَّلِ ثَمَانٍ وَلَكِنَّهَا أَوَّلُ السَّبْعِ، إِنَّ الشَّهْرَ لَا يَتِمُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عبداللہ خبیب کہتے ہیں سیدنا عمر فارق کے زمانے میں ایک آدمی نے ان سے تعاون کی درخواست کی انہوں نے اسے کچھ دے دیا اس آدمی کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ ہمارے ساتھ قبیلہ جہینہ کی ایک مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی سیدنا عبداللہ بن انیس بیٹھے ہوئے تھے یہ رمضان کا مہینہ تھا ہم نے ان سے عرض کیا: کہ اے ابویحییٰ اس مبارک رات کے حوالے سے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ سنا ہے انہوں نے فرمایا: ہاں ایک مرتبہ ہم لوگ اس مہینے کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم اس لیلہ مبارکہ کو کب تلاش کر یں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آج ہی کی رات کو تلاش کر و وہ ٢٣ ویں شب تھی ایک آدمی اس پر کہنے لگا یا رسول اللہ! اس طرح تو یہ آٹھ سے پہلی رات ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آٹھ میں سے پہلی نہیں بلکہ سات میں سے پہلی ہے مہینہ بعض اوقات پور انہیں بھی ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16046]
حکم دارالسلام
حديث حسن، عبدالله بن عبدالله بن خبيب مجهول، لكنه تويع
الحكم: حديث حسن، عبدالله بن عبدالله بن خبيب مجهول، لكنه تويع