أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ أَبُو ضَمْرَةَ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ أَبُو ضَمْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَأُرَانِي صَبِيحَتَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ"، فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْصَرَفَ، وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن انیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ایک رات میں شب قدر کو دیکھا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلادی گئی البتہ میں نے یہ دیکھا تھا کہ اس کی صبح کو میں نے پانی اور کیچر میں سجدہ کیا ہے چنانچہ ٢٣ ویں شب کو بارش ہوئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب صبح کی نماز ہمیں پڑھا کر واپس ہوئے تو آپ کی پیشانی پر مٹی اور پانی کے اثرات نظر آ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1168
الحكم: إسناده صحيح، م: 1168