سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، رَبِيعَةَ بْنَ عَبَّادٍ الدِّيلِيَّ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ عَبَّادٍ الدِّيلِيَّ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ بمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ: وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ يَقُولُ: هَذَا يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَدَعُوا دِينَ آبَائِكُمْ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ؟ فَقِيلَ: هَذَا أَبُو لَهَبٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ہجرت مدینہ سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں کے دین سے برگشتہ نہ کر دے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا شخص بھینگا کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چچا ابولہب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16024]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن سلمة
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن سلمة