أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الْمُسَيِّبِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّيلِيِّ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الْمُسَيِّبِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّيلِيِّ وَكَانَ جَاهِلِيًّا أَسْلَمَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَ عَيْنِي بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، تُفْلِحُوا" , وَيَدْخُلُ فِي فِجَاجِهَا، وَالنَّاسُ مُتَقَصِّفُونَ عَلَيْهِ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا يَقُولُ شَيْئًا، وَهُوَ لَا يَسْكُتُ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، تُفْلِحُوا" وإِلَّا أَنَّ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْوَلَ وَضِيءَ الْوَجْهِ ذَا غَدِيرَتَيْنِ يَقُولُ: إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ , فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَذْكُرُ النُّبُوَّةَ , قُلْتُ: مَنْ هَذَا الَّذِي يُكَذِّبُهُ؟ قَالُوا: عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ , قُلْتُ: إِنَّكَ كُنْتَ يَوْمَئِذٍ صَغِيرًا! قَالَ: لَا وَاللَّهِ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَعْقِلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ربیعہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت بھی پایا تھا بعد میں مسلمانوں ہو گئے تھے سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا کہ اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہہ لو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ وہ گلیوں میں داخل ہوتے جاتے اور لوگ ان کے گرد جمع ہوتے جاتے تھے کوئی ان سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا اور وہ خاموش ہوئے بغیر اپنی بات دہرا رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی تھی اور اس کی دومینڈھیاں اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص بےدین اور جھوٹا العیاذ با اللہ میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے لوگوں نے بتایا کہ محمد بن عبداللہ ہیں جو نبوت کا دعوی کرتے ہیں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا آدمی کون ہے جوان کی تکذیب کر رہا ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چچا ابولہب ہے راوی نے ان سے کہا کہ آپ تو اس زمانے میں بہت چھوٹے ہوں گے انہوں نے فرمایا: نہیں واللہ میں اس وقت سمجھدار تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16023]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن