يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعَبْلِيُّ ، عُبَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي مُوَيْهِبَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعَبْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ، إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ، فَانْطَلِقْ مَعِي" , فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، قَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ، لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ فِيهِ النَّاسُ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاكُمْ اللَّهُ مِنْهُ، أَقْبَلَتْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ أَوَّلُهَا آخِرَهَا، الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى" , قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:" يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ، وَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةِ" , قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي فَخُذْ مَفَاتِيحَ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا، ثُمَّ الْجَنَّةَ , قَالَ:" لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ، لَقَدْ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةَ" , ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَبُدِئَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حِينَ أَصْبَحَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابومویھبہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کر دہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم ملا کہ اہل بقیع کے لئے دعا کر یں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رات میں ان کے لئے تین مرتبہ دعا کی دوسری رات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابومویھبہ میرے لئے سواری پر زین کس دو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہوئے اور میں پیدل چلا یہاں تک کہ ہم جنت البقیع پہنچ گئے وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری سے اترگئے میں نے سواری کی رسی تھام لی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی قبروں پر جا کر کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ لوگوں کے حالات سے نکل کر تم جن نعمتوں میں ہو وہ تمہیں مبارک ہوں رات کے مختلف سیاہ حصوں کی طرح فتنے اتر رہے ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے جارہے ہیں اور ہر بعد والا پہلے والے سے زیادہ سخت ہے اس لئے تم جن نعمتوں میں ہواس پر تمہیں مبارک ہو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آ گئے اور فرمایا: مجھے اس بات کا اختیار دیا گیا ہے میرے بعد میری امت جو فتوحات حاصل کر ے گی مجھے ان کی چابیاں اور جنت دیدی جائے یا اپنے رب سے ملاقات کر وں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہمیں بھی اپنی ترجیح کے بارے بتائیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد امت وہی کر ے گی جو اللہ کو منظور ہو گا اس لئے میں نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی لی ہے چنانچہ اس واقعے کی سات یا آٹھ دن بعد ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15997]
حکم دارالسلام
حديث صحيح فى استغفاره لأهل البقيع واختياره لقاء ربه ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عمر العبلى، وعبيد بن جبير
الحكم: حديث صحيح فى استغفاره لأهل البقيع واختياره لقاء ربه ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عمر العبلى، وعبيد بن جبير