يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، الرَّبَابُ ، سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي الرَّبَابُ . وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَتْ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ: مَرَرْنَا بِسَيْلٍ، فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ مِنْهُ، فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا، فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ" , قُلْتُ: يَا سَيِّدِي، وَالرُّقَى صَالِحَةٌ؟ قَالَ:" لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ، أَوْ حُمَةٍ , أَوْ لَدْغَةٍ". قَالَ عَفَّانُ:" النَّظْرَةُ , وَاللَّدْغَةُ , وَالْحُمَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی علاقے میں پانی کی ندی پر سے ہمارا گزر ہوا میں اس میں غسل کرنے لگا جب نکلا تو بخار چڑھ چکا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا: ابوثابت سے کہو کہ اپنے اوپر تعوذ پڑھ کر پھونک لیں میں نے عرض کیا: آقا جھاڑ پھونک بھی ہو سکتا ہے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈسنے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15978]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الرباب مجهولة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الرباب مجهولة