بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15977
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15977
حدیث نمبر: 15977 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو النَّضْرِ ، حِزَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَامِرِيُّ ، أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِزَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْحَرُورِيَّةِ , قَالَ: أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنْ هَاهُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْعِرَاقِ" يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" , قُلْتُ: هَلْ ذَكَرَ لَهُمْ عَلَامَةً؟ قَالَ: هَذَا مَا سَمِعْتُ، لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یسیر بن عمرو سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں سیدنا سہل بن حنیف کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا: کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو فرقہ حروریہ کے متعلق آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوانہوں نے فرمایا کہ میں تم سے صرف اتنا ہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو یہاں سے نکلے گی اور عراق کی طرف اشارہ کیا وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی ہے انہوں نے جواب دیا میں نے جو سنا تھا وہ یہی ہے کہ میں اسے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15977]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1068، لم يوجد فى حزام بن إسماعيل توثيق، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1068، لم يوجد فى حزام بن إسماعيل توثيق، لكنه توبع
← پچھلی حدیث (15976) باب پر واپس اگلی حدیث (15978) →