أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءٍ ، حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، خَالِهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ أَشْيَاءَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: أَعْشِرُهَا؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹیکس تو یہو د و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15896]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد اختلف فيه على عطاء
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد اختلف فيه على عطاء