عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، رَجُلٍ ، خَالِهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْشِرُ قَوْمِي؟ قَالَ:" إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹیکس تو یہو د و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15895]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على عطاء
الحكم: إسناد ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على عطاء