مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْرَائِيلَ ، جَعْدَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْرَائِيلَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَعْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى رَجُلًا سَمِينًا , فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُومِئُ إِلَى بَطْنِهِ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ:" لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ، فَقَالُوا: هَذَا أَرَادَ أَنْ يَقْتُلَكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ تُرَعْ، لَمْ تُرَعْ، وَلَوْ أَرَدْتَ ذَلِكَ لَمْ يُسَلِّطْكَ اللَّهُ عَلَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جعدہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک صحت مند آدمی کو دیکھا تو اس کے پیٹ کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر یہ اس کے علاوہ میں ہوتا تو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہوتا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کو لایا گیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہہ رہے تھے یہ آپ کو شہید کرنے کے ارادے سے آیا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: گھبراؤ نہیں، اگر تم ایسا کرنا بھی چاہتے تو اللہ تمہیں مجھ پر قدرت نہ عطا فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15868]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو إسرائيل شعيب الجشمي لم يرو عنه غير شعبة، ذكره ابن حبان فى الثقات
الحكم: إسناده ضعيف، أبو إسرائيل شعيب الجشمي لم يرو عنه غير شعبة، ذكره ابن حبان فى الثقات