إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا ذَاكُمْ، قَالُوا: فَمَا نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ؟ قَالَ:" قُولُوا: بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ. إِنَّا كَذَلِكَ كُنَّا نُؤْمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب نے بنوجعشم کی ایک عورت سے شادی کر لی لوگ انہیں مبارک باد دینے کے لئے آئے اور کہنے لگے کہ آپ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا ہو گا اور یہ نکاح اولاد کا ذریعہ بنے انہوں نے فرمایا: رکو یوں نہ کہو لوگوں نے پوچھا کہ اے ابویزید پھر کیا کہیں انہوں نے فرمایا: یوں کہا کر و اللہ تمہارے لئے اسے مبارک کر ے تمہیں برکتیں عطا فرمائے اور اس نکاح میں تم پر خوب برکت نازل فرمائے ہمیں اسی کا حکم دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15741]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عقيل
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عقيل