يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، رَأَيْتُ السَّائِبَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا , ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ حَدَّثَهُ , قَالَ: رَأَيْتُ السَّائِبَ يَشُمُّ ثَوْبَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: مِمَّ ذَاكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ رِيحٍ أَوْ سَمَاعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا سائب کو اپنا کپڑا سونگھتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وضو اس وقت تک واجب نہیں ہوتا جب تک بدبو نہ آئے یا آواز سنائی نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15506]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة وجهالة حال محمد ابن عبدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة وجهالة حال محمد ابن عبدالله