بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15491
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15491
حدیث نمبر: 15491 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، الْحُصَيْنُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَسْجِدَ، فَرَأَى فِي الْقَوْمِ رِقَّةً، فَقَالَ:" إِنِّي لَأَهُمُّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ إِمَامًا، ثُمَّ أَخْرُجُ فَلَا أَقْدِرُ عَلَى إِنْسَانٍ يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ، إِلَّا أَحْرَقْتُهُ عَلَيْهِ" , فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا، وَلَا أَقْدِرُ عَلَى قَائِدٍ كُلَّ سَاعَةٍ، أَيَسَعُنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ:" أَتَسْمَعُ الْإِقَامَةَ" , قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأْتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن ام مکتوم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لائے تو لوگوں کی تعداد کم تھی اس پر آپ نے ارشاد فرمایا: میرادل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو لوگوں کا امام بناؤ اور خود باہر نکل جاؤ جس شخص کو دیکھو کہ وہ گھر میں نماز پڑھ رہا ہے اسے آگ لگادوں یہ سن کر سیدنا ابن ام مکتوم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے گھر اور مسجد نبوی کے درمیان باغ اور درخت آتے ہیں اور مجھے ہر لمحے کے لیے کوئی رہبر بھی میسر نہیں ہوتا کیا مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہوانہوں نے عرض کیا: جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم نماز کے لئے آیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15491]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد صحيح إن كان عبدالله بن شداد سمعه من ابن ام مكتوم
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد صحيح إن كان عبدالله بن شداد سمعه من ابن ام مكتوم
← پچھلی حدیث (15490) باب پر واپس اگلی حدیث (15492) →