أَبُو النَّضْرِ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي رَزِينٍ ، عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ ضَرِيرًا شَاسِعَ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي، فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ:" أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ" , قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ:" مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمرو بن ام مکتوم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور فرمایا کہ یا رسول اللہ! میرا گھر دور ہے مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا مجھے ایک آدمی لابھی سکتا ہے اور وہ اس پر ناگواری کا اظہار بھی نہیں کرتا لیکن کیا آپ میرے لئے کوئی ایسی گنجائش دیکھتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کر وں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اذان کی آواز سنتے ہو میں نے کہا جی ہان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر میں تمہارے لئے کوئی گنجائش نہیں پاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15490]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو رزين لم يسمع من ابن أم مكتوم
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو رزين لم يسمع من ابن أم مكتوم