بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15310
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15310
حدیث نمبر: 15310 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ قَرْمٍ ، سِمَاك ، جُعَيْد ، صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ قَرْمٍ ، عَنْ سِمَاك ، عَنْ جُعَيْد ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي، فَسُرِقَتْ فَأَخَذْنَا السَّارِقَ، فَرَفَعْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفِي خَمِيصَةٍ ثَمَنُ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا؟! أَنَا أَهَبُهَا لَهُ أَوْ أَبِيعُهَا لَهُ، قَالَ:" فَهَلَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صفوان بن امیہ سے مروی ہے کہ میں مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ ایک چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا نکال لیا اور چلتا بنا میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا اور عرض کیا: کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا تیس درہم کی چادر کے بدلے میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا یہ میں اسے ہبہ کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو نے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ صدقہ کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15310]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشاهده ، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم، وجهالة جعيد ابن أخت صفوان، واختلف فيه على سماك فى اسم جعيد
الحكم: صحيح بطرقه وشاهده ، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم، وجهالة جعيد ابن أخت صفوان، واختلف فيه على سماك فى اسم جعيد
← پچھلی حدیث (15309) باب پر واپس اگلی حدیث (15311) →