بَهْزٌ ، مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ , فَلَمَّا انْتَهَى قَالَ:" مَا مِنْ غَدَاءٍ؟" أَوْ" عَشَاءٍ" شَكَّ طَلْحَةُ، قَالَ: فَأَخْرَجُوا فَلْقًا مِنْ خُبْزٍ , قَالَ:" مَا مِنْ أُدْمٍ؟"، قَالُوا: لَا , إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ:" أَدْنِيهِ , فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدْمُ هُوَ"، قَالَ جَابِرٌ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ طَلْحَةُ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں چلتے چلتے کسی حجرے پر پہنچے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے کچھ روٹیاں لا کر دسترخوان پر رکھ دیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی سالن ہے انہوں نے عرض کیا: البتہ تھوڑا ساسر کہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہی لے آؤ سرکہ تو بہترین سالن ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت سے سرکہ کو پسند کرتا ہوں جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15293]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2052
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2052