إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو الْمَلِيحِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ خَبَرٍ قَدِمَ عَلَيْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَ لَهَا تَابِعٌ، قَالَ: فَأَتَاهَا فِي صُورَةِ طَيْرٍ، فَوَقَعَ عَلَى جِذْعٍ لَهُمْ، قَالَ: فَقَالَتْ: أَلَا تَنْزِلُ فَنُخْبِرَكَ وَتُخْبِرَنَا؟، قَالَ: إِنَّهُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ بِمَكَّةَ، حَرَّمَ عَلَيْنَا الزِّنَا، وَمَنَعَ مِنَ الْفِرَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ہمیں سب سے پہلی جو خبر ملی تھی وہ یہ تھی کہ ایک عورت کا کوئی جن تابع تھا وہ ایک مرتبہ اس کے پاس پرندے کی شکل میں آیا اور ایک درخت کی شاخ پر بیٹھ گیا اس عورت نے اسے کہا کہ تم نیچے کیوں نہیں آتے کہ تم ہمیں اپنی خبر دو ہم تمہیں اپنی خبر دیں اس نے جواب دیا کہ مکہ مکر مہ میں ایک آدمی ظاہر ہوا جس نے ہم پر بدکاری کو حرام قرار دیا ہے اور ہمیں اس طرح ٹھہرنے سے منع کر دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14835]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف تفرد به عبدالله بن محمد بن عقيل عن جابر ، وعبدالله إنما يعتبر به فى المتابعات والشواهد
الحكم: إسناده ضعيف تفرد به عبدالله بن محمد بن عقيل عن جابر ، وعبدالله إنما يعتبر به فى المتابعات والشواهد