حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ تَمَنَّى آخَرَ"؟، فَقَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ تَمَنَّى مِثْلَهُ، ثُمَّ تَمَنَّى مِثْلَهُ، حَتَّى يَتَمَنَّى أَوْدِيَةً، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہو تی تو وہ دوسری کی تمنا کرتا انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر ابن آدم کے پاس کھجوروں کے درختوں کی ایک پوری وادی ہو تو وہ دو کی اور دو ہوں تو تین کی تمنا کر ے گا اور ابن آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14665]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وقد توبع