عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَلَتْ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ:" إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ:" يَا بَنِي سَلِمَةَ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی کے قریب زمین کا ایک ٹکڑ اخالی ہو گیا بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے یہ فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہو نا چاہتے ہوانہوں نے عرض کی جی یا رسول اللہ! ہمارا یہی ارادہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بنوسلمہ اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھا جاتا ہے اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 665
الحكم: إسناده صحيح، م: 665