هُشَيْمٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ، بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَنَفِدَ زَادُنَا، فَمَرَرْنَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْهُ، فَمَنَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، ثُمَّ إِنَّهُ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُلُوا، قَالَ: فَأَكَلْنَا مِنْهُ أَيَّامًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ بَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ، فَابْعَثُوا بِهِ إِلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک سفر میں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا راستے میں ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا، اسی دوران ہمارا گزر ایک بہت بڑی مچھلی پر ہوا جو سمندر نے باہر پھینک دی تھی، ہم نے اسے کھانا چاہا لیکن سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پہلے تو ہمیں منع کر دیا، پھر فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قاصد اور اللہ کے راستے میں نکلے ہیں، اس لئے اسے کھا لو چنانچہ ہم کئی دن اسے کھاتے رہے اور واپس آنے کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی اس کا تذکر ہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کا کچھ حصہ تمہارے پاس بچا ہوا تو وہ ہمیں بھی بھیجو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4362، م: 1935
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4362، م: 1935