وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ خَالِي يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَلَمَّا" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَى أَتَاهُ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى، وَإِنِّي أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَقَالَ:" مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ماموں بچھو کے ڈنگ کا منتر کے ذریعے علاج کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منتر اور جھاڑ پھونک کی ممانعت فرمائی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے، یا رسول اللہ! آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو کے ڈنگ کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو، اسے ایسے ہی کرنا چاہیے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14231]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2199
الحكم: إسناده قوي، م: 2199