مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ لَا أَعْقِلُ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ، أَوْ قَالَ: صَبُّوا عَلَيَّ فَعَقَلْتُ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ لَا يَرِثُنِي إِلَّا كَلَالَةٌ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں اس وقت اتنا بیمار تھا کہ ہو ش و حواس سے بیگانہ تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کر کے وہ پانی مجھ پر بہا دیا یا بہانے کا حکم دے دیا مجھے ہو ش آگیا اور میں نے عرض کیا: کہ میرے ورثاء میں تو سوائے " کلالہ " کے کوئی نہیں میراث کیسے تقسیم ہو گی؟ اس پر تقسیم وراثت والی آیت نازل ہوئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14186]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5676، م: 1616
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5676، م: 1616