بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1379
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1379
حدیث نمبر: 1379 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ، فَشُغِلَ عَنْهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ لِي:" كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟"، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ عَادَ، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَقَالَ:" قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، كَأَنَّ يَدَهُ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ"، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ فِيهِمْ،...، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کلیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی ان کے پاس آیا جس پر سفر کے کپڑے تھے، اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے - جو کہ لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے - اندر آنے کی اجازت لی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس سے منہ پھیرنے کے بعد فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت سوائے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی اور نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: اے ابن ابی طالب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایسی ایسی قوم سے تمہارا پالا پڑے گا؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، دو مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر فرمایا: ایک قوم ہوگی جو مشرق سے نکلے گی، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جا سکے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کا ہاتھ ناقص ہوگا، اور اس کے ہاتھ ایک حبشی عورت کی چھاتی کی طرح محسوس ہوں گے۔ . . . . . اس کے بعد انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1379]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
← پچھلی حدیث (1378) باب پر واپس اگلی حدیث (1380) →