زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أخبرنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ، قَالَ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ هَذَيْنِ"، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام حمزہ رکھا گیا، اور جب حسین کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام ان کے چچا کے نام پر جعفر رکھا گیا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان دونوں کے نام بدل دوں۔“ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام علی الترتیب حسن اور حسین رکھ دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1370]
الحكم: إسناده حسن