سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، زَائِدَةُ ، السُّدِّيِّ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أخبرنا زَائِدَةُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمْ الْحُدُودَ، مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ، وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ، فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ، فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ، فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ تَمُوتَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ" أَحْسَنْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! اپنے غلاموں، باندیوں پر بھی حدود جاری کیا کرو، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، کیونکہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک باندی سے بدکاری کا ارتکاب ہو گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس پر سزا جاری کرنے کا حکم دیا، جب میں اس پر حد جاری کرنے لگا تو پتہ چلا کہ ابھی اس کے نفاس کا زمانہ تازہ ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں کوڑے لگنے سے یہ مر ہی نہ جائے، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا معاملہ ذکر کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1341]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1705
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1705