بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1300
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1300
حدیث نمبر: 1300 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صِفْهُ لَنَا، فَقَالَ:" كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا، وَفَوْقَ الرَّبْعَةِ، إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ، أَبْيَضَ شَدِيدَ الْوَضَحِ، ضَخْمَ الْهَامَةِ، أَغَرَّ أَبْلَجَ، هَدِبَ الْأَشْفَارِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ، كَأَنَّ الْعَرَقَ فِي وَجْهِهِ اللُّؤْلُؤُ، لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ، بِأَبِي وَأُمِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یوسف بن مازن کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ امیر المومنین! ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کیجئے، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت زیادہ لمبے قد کے نہ تھے، درمیانے قد سے تھوڑے اونچے تھے، لیکن جب لوگوں کے ساتھ آ رہے ہوتے تو سب سے اونچے محسوس ہوتے، سفید کھلتا ہوا رنگ تھا، سر مبارک بڑا تھا، روشن کشادہ پیشانی تھی، پلکوں کے بال لمبے تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں مبارک بھرے ہوئے تھے، جب چلتے تو پاؤں اٹھا کر چلتے، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی گھاٹی میں اتر رہے ہوں، پسینہ کے قطرات روئے انور پر موتیوں کی مانند محسوس ہوتے تھے، میں نے ان جیسا نہ ان سے پہلے دیکھا اور نہ ان کے بعد، میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1300]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، يوسف بن مازن لم يدرك علياً ، وخالد بن خالد مجهول
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، يوسف بن مازن لم يدرك علياً ، وخالد بن خالد مجهول
← پچھلی حدیث (1299) باب پر واپس اگلی حدیث (1301) →