مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نُجَيٍّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نُجَيٍّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ لِي سَاعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ يَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ"، قَالَ:" فَنَظَرْتُ فَإِذَا جِرْوٌ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ تَحْتَ السَّرِيرِ، فَأَخْرَجْتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رات کو ایک مخصوص وقت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، جس سے اللہ مجھے خوب فائدہ پہنچاتا تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر اور مورتی ہو، میں نے دیکھا تو چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلہ نطر آیا جو حسن کا تھا، میں نے اسے باہر نکال دیا۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1290]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعلل
الحكم: إسناده ضعيف لعلل