أَبُو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ، لَرَأَيْتُ أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ هُوَ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے نعلین پر مسح کیا اور فرمایا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1264]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وانظر : 737
الحكم: صحيح لغيره، وانظر : 737