أَبُو نُعَيْمٍ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: اطْلُبُوا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، سِيمَاهُمْ، أَوْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ مُخْدَجُ الْيَدِ، فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ"، إِنْ كَانَ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ، قَالَ: فَخَرَرْنَا سُجُودًا، وَخَرَّ عَلِيٌّ سَاجِدًا مَعَنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن زیاد کہتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج سے جنگ کے لئے نکلے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا، اور فرمایا: دیکھو! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بات تو صحیح کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گی، وہ لوگ حق سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ ناتمام ہوگا، اس کے ہاتھ (ہتھیلی) میں کالے بال ہوں گے۔“ اب اگر ایسا ہی ہے تو تم نے ایک بدترین آدمی کے وجود سے دنیا کو پاک کر دیا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم نے ایک بہترین آدمی کو قتل کر دیا، یہ سن کر ہم رونے لگے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے تلاش کرو، چنانچہ ہم نے اسے تلاش کیا تو ہمیں ناقص ہاتھ والا ایک آدمی مل گیا، جسے دیکھ کر ہم سجدے میں گر پڑے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ ہی سربسجود ہو گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1255]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طارق بن زياد الكوفي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طارق بن زياد الكوفي