أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَةَ: لَوْ أَتَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِهِ خَادِمًا، فَقَدْ أَجْهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ؟ قَالَ حُسَيْنٌ: إِنَّهُ قَدْ جَهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ، قَالَتْ: فَانْطَلِقْ مَعِي، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهَا فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ ذَلِكَ؟ إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا، فَسَبِّحَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَتِلْكَ مِائَةٌ عَلَى اللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ"، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا تَرَكْتُهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آٹا پیس پیس کر تمہارے ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، اگر تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر ان سے ایک خادم کی درخواست کرتیں (تو شاید کچھ بہتر ہو جاتا)، انہوں نے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں، چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے درخواست پیش کر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو، کہنے کو تو یہ سو ہوں گے لیکن میزان عمل میں ایک ہزار کے برابر ہوں گے۔“ چنانچہ اس دن کے بعد سے میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا، ایک سائل نے پوچھا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! جنگ صفین کی رات بھی نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1250]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، و هذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، و هذا إسناد حسن