يَزِيدُ ، شَرِيكٌ ، الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْيَ، فَقَالَ:" ذَلِكَ مَاءُ الْفَحْلِ، وَلِكُلِّ فَحْلٍ مَاءٌ، فَلْيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، مجھے خود سے یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی کہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں، چنانچہ میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ”یہ تو مرد کا پانی ہے اور ہر طاقتور مرد کا پانی ہوتا ہے، اس لئے جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کر لیا کرو۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1238]
حکم دارالسلام
حسن لغيره ، شريك النخعي قد توبع
الحكم: حسن لغيره ، شريك النخعي قد توبع