عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" فَمَرَّ بِهِ جَنَازَةٌ، فَقَامَ لَهَا نَاسٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ أَفْتَاكُمْ هَذَا؟! فَقَالُوا: أَبُو مُوسَى، قَالَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً، وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا نُهِيَ انْتَهَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے، وہاں سے ایک جنازہ گذرا، لوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تمہیں یہ مسئلہ کس نے بتایا ہے؟ لوگوں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام لیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح صرف ایک مرتبہ کیا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اہل کتاب کی مشابہت اختیار فرمایا کرتے تھے، لیکن جب اس کی ممانعت کر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رک گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1200]
حکم دارالسلام
صحيح، ليث ضعيف وقد توبع
الحكم: صحيح، ليث ضعيف وقد توبع