وَكِيعٌ ، يُونُسَ ، أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَصَبْنَا حُمُرًا يَوْمَ خَيْبَرَ، فَكَانَتْ الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذِهِ؟" , فَقُلْنَا: حُمُرٌ أَصَبْنَاهَا، فَقَالَ:" وَحْشِيَّةٌ أَوْ أَهْلِيَّةٌ؟" , قَالَ: قُلْنَا: لَا بَلْ أَهْلِيَّةٌ، قَالَ:" أكْفُِئوهَا" , قَالَ: فَكَفَأْنَاهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے غزوہ خیبر کے دن ہمیں کچھ گدھے مل گئے، ابھی ہانڈیاں ابل رہی تھیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ یہ کیسا گوشت ہے؟ ہم نے عرض کیا گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا پالتو یا جنگلی؟ ہم نے عرض کیا پالتو گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ہانڈیاں الٹ دو، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا، (حالانکہ ہمیں اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی اور کھانے کی طلب محسوس ہو رہی تھی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11936]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن