مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ أَتَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ، فَقَالَ: لَعَلَّكِ غَيْرَى، لَعَلَّكِ رَأَيْتِ فِي مَنَامِكِ، لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ؟ وكُلٌّ ذلك تَقُولُ: لَا، فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ:" جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہو گیا ہے اس لئے مجھے سزا دیجئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہو سکتا ہے تو نے خواب میں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہو، شاید تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ لیکن وہ ہر بات کے جواب میں ”نہیں“ کہتی رہی، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے، اور جمعہ کے دن اس پر حد رجم جاری فرمائی، اور فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1185]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وفي خ : 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
الحكم: حديث صحيح ، وفي خ : 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد