عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ : أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ لَمَّا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أرسل إليه رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ" أَوْ إِلَى خَيْرِكُمْ، فَقَالَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ" , قَالَ: إِنِّي أَحْكُمُ أَنْ يُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، قَالَ:" لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضا مندی ظاہر کردی، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے، انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروا دیں اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11680]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4121، م: 1768
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4121، م: 1768