إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ، وَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِيكَ الْبَقْلَةِ فِي الثُّومِ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا، وَنَاسٌ جِيَاعٌ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ، فَقَالَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا، فَلَا يَقْرَبْنَا فِي الْمَسْجِدِ"، فَقَالَ نَاسٌ: حُرِّمَتْ، حُرِّمَتْ , فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ، وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح خیبر کے بعد ہم لوگ اس سبزی (لہسن) پر جھپٹ پڑے اور ہم نے اسے خوب کھایا، کچھ لوگ ویسے ہی خالی پیٹ تھے، جب ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس گندے درخت کا پھل کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے، لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ لہسن حرام ہوگیا، حرام ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگو! جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے، مجھے اسے حرام قرار دینے کا اختیار نہیں ہے، البتہ مجھے اس درخت کی بو پسند نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 565
الحكم: إسناده صحيح، م: 565