عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ غَارِمٍ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا، فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوٰۃ حلال نہیں سوائے پانچ مواقع کے، زکوٰۃ وصول کرنے والے کے لئے اپنے مال سے اسے خریدنے والے کے لئے، مقروض کے لئے، جہاد فی سبیل اللہ میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے غریب پڑوسی کو کسی نے صدقہ کی کوئی چیز بھیجی ہو اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیۃً بھیج دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11538]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، واختلف فى وصله وإرساله ، وعلى فرض إرساله يتقوى بعمل الأئمة ويعتضد
الحكم: حديث صحيح، واختلف فى وصله وإرساله ، وعلى فرض إرساله يتقوى بعمل الأئمة ويعتضد