عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَكَيْتَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ , فَقَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ عَيْنٍ وَنَفْسٍ يَشْفِيكَ، بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ بیمار ہیں؟ فرمایا جی ہاں! تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ " میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، نظر بد کے شر سے اور نفس کے شر سے، اللہ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11534]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2186
الحكم: إسناده صحيح، م: 2186