عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ، قَالَ: يَعْنِي:" لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ، وَقَالَ لِلْقَاعِدِ: أَيُّكُمَا خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ، كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور پیچھے رہنے والے کے متعلق فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے پیچھے اس کے اہل خانہ اور مال و دولت کا اچھے طریقے سے خیال رکھتا ہے، اسے جہاد پر نکلنے والے کا نصف ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11527]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد حسن، م: 1896
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد حسن، م: 1896