وَكِيعٌ ، يُونُسَ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ:" اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ، فَمَا قَضَى اللَّهُ فَهُوَ كَائِنٌ، فَلَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11438]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا سند حسن، يونس بن عمرو السبيعي مختلف فيه، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا سند حسن، يونس بن عمرو السبيعي مختلف فيه، وهو متابع